منگلورو21؍نومبر ( ایس او نیوز)ریاست کے مختلف مقامات پراور خاص کر کے الال او ر اس کے اطراف میں سنگھ پریوار کے کارکنوں پر مبینہ حملے اور قتل کی واردات کے پس منظر میں بی جے پی، وشوا ہندو پریشد اور سنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں نے شہر میں کانگریس حکومت کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔اور وارننگ دی کہ اس کے جواب میں اگر آنے والے دنوں میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑکتا ہے تو پھر اس کی پوری ذمہ داری وزیر اعلیٰ سدارامیا پر ہوگی۔
سنگھ پریوارنے یہ احتجاجی مظاہرہ ہندو ہتھ رکھشنا سمیتی (ہندوؤں کے مفادات کی محافظ کمیٹی)کے بینر تلے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے کیا۔احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ممبر پارلیمان نلین کمار کٹیل نے کہا :" ریاستی حکومت اکثریتی طبقے پر حملے روکنے میں ناکام ہوگئی ہے۔جب کے سی جارج وزیر داخلہ تھے تو ہر جگہ گؤ کشی کے لئے جانور لانے اور لے جانے کا کام زوروں پر تھا۔ جب سے پرمیشور نے وزیر داخلہ کا قلمدان سنبھالا ہے توسڑکوں پر چلنے پھرنے والوں کو قتل کیا جارہا ہے۔جب اپریل 2014میں شرینگیری میں گائے لے جانے والے ایک شخص کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا، تو اس وقت سدارامیا نے اس کے خاندان کو10لاکھ روپے معاوضہ دیا تھا۔لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران قتل ہونے والے کسی ایک بھی ہندو نوجوان کو ایک پیسے کا معاوضہ حکومت نے نہیں دیا ہے۔الال کے حلقہ اسمبلی میں دو ہندونوجوانوں کا قتل ہوا ہے اور سات نوجوانوں کو چھرا گھونپا گیا ہے۔اتنے جرائم کے بعد بھی کسی ایک شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔یہ ایک ایسی حکومت ہے جو تشدد پر اکسا رہی ہے۔"
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مسٹر کٹیل نے کہا کہ" اگر مستقبل میں ریاست میں یا پھر ہمارے ضلع میں فرقہ وارانہ تشدد بھڑک اٹھتا ہے تو اس کے لئے وزیر اعلیٰ ، وزیر داخلہ اور ڈسٹرکٹ انچارج وزیر ہی ذمہ دار ہونگے۔اگر فرقہ وارانہ فساد کو روکنا ہے تو پھر ان لوگوں کو چاہیے کہ قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتار کرلیں۔"
وی ایچ پی کے ریجنل ورکنگ پریسیڈنٹ مسٹر پورانک نے اپنے خطاب میں کہا کہ"گزشتہ دو سال کے دوران ہمیں ایک تحفہ ملا ہے۔ہندو نوجوان اور خاص کرکے سنگھ پریوار کے کارکنان کو نشانہ بناکر قتل کیا جارہا ہے۔ہندو برادری برسوں سے اپنے صبر و تحمل کے لئے جانی جاتی ہے۔ہمارے آبا و اجداد نے ہمیں لوگوں کو معاف کرنا سکھایا ہے۔ مگر اب ہماری اس خوبی کو ہماری کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔لہٰذا ریاستی حکومت اور پولیس کو وارننگ دینے کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔یہ تو بس شروعات ہے۔ اگرریاستی حکومت ضروری اقدامات نہیں کرتی ہے تو پھر ہمارا احتجاج تیز ہوجائے گا۔"
مسٹر پورانک نے مزید کہاکہ "پرشانت پجاری سے لے کر رودریش تک 8ہندو کارکنان کا قتل کیا جاچکا ہے۔حکومت نے ابھی تک قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا ہے۔اور اگر جلد ہی مجرموں کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہے تو پھر آئندہ مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لئے حکومت کو تیار رہنا ہوگا۔"ہندو جاگرن ویدیکے کے لیڈر رادھا کرشنا کا کہنا تھا کہ:"اسلام چودہ سو سال قبل وجود میں آیا ، جبکہ اس ملک میں ہندو ہزارہا سال سے بستے ہیں ۔اس کے باوجوداس ملک میں مسلمانوں کی آبادی 27فیصد تک بڑھ گئی ہے۔آزادی کے 70برسوں کے دوران ہمیں یہ بتایا گیا کہ ہم لوگ ایک ذات پات اور طبقات پر مبنی مذہب کے ماننے والے ہیں۔اوراسی بنیا د پر بار بار ہماری تذلیل کی جاتی ہے۔اب میں مسلم بھائیوں سے کہنا چاہوں گا کہ مہربانی کرکے ہمارے نوجوانوں پر حملے مت کرو۔ہم نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ دن بتائے ہیں اور آئندہ بھی امن و امان کے ساتھ جی سکتے ہیں۔لیکن ہم ہرقسم کے حملے کا جواب دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ اس لئے ہمارے صبر کا امتحان بھی مت لینا۔ہم سب امن اور ہم آہنگی کے ساتھ رہیں اور ملک کی تعمیر کریں ۔"
اس احتجاجی مظاہرے میں سنگھ پریوار کے کئی اہم لیڈران موجود تھے۔